نیویارک،10؍ستمبر(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)امریکی محکمہ موسمیات کے حکام کا کہنا ہے کہ چوتھے درجے کا سمندری طوفان ارما امریکی ریاست فلوریڈا کے جنوبی جزائر سے ٹکرا گیا ہے۔گذشتہ چند گھنٹوں سے ارما کے جھونکے فلوریڈا کے جزائر سے ٹکرانا شروع ہو گئے تھے اور اب چوتھے درجے کے اس طوفان کا اگلا حصہ فلوریڈا کے زمینی علاقوں پر پہنچ گیا ہے۔فلوریڈا کے گورنر رک سکاٹ نے کہا ہے کہ انھیں ریاست کی مغربی خلیجی ساحل جو اس طوفان کا اگلہ نشانہ ہو گی کے حوالے سے شدید تیشویش لاحق ہے۔ماہرین کے مطابق جب یہ ریاست کے زیریں علاقوں سے گزرے گا تو طوفانی ہواؤں کی رفتار 130میل (209کلومیٹر)فی گھنٹہ تک ہو سکتی ہے، جس کے بعد طوفان شمال مشرق میں فلوریڈا کی خلیج کے ساحل کی جانب بڑھ جائے گا۔
امریکہ کے سالحوں سے ٹکرانے سے پہلے یہ طوفان جزائر غرب الہند یا کیریبئین کے مختلف جزیرے سے ٹکرایا تھا جہاں اس کی زد میں آ کر کم از کم 25 افراد ہلاک ہو گئے۔ماہرین کے مطابق خدشہ ہے کہ طوفان کا مرکزی حصہ (جسے طوفان کی آنکھ بھی کہا جاتا ہے) وہ آئندہ دو گھنٹوں تک فلوریڈا کے زیریں علاقوں سے گزرتا رہے گا۔
جب طوفان کا مرکزی حصہ فلوریڈا پہنچے گا تو ارد گرد کے جزیروں پر گرنے والی طوفانی لہروں کی بلندی 15 فٹ تک ہو سکتی ہے۔ریاست کے سرکاری حکام میں سے ایک کا کہنا ہے کہ اس وقت فلوریڈا کے ارد گرد کسی جزیرے پر موجود رہنا تقریباً خود کشی کرنے کے مترادف ہوگا۔ریاست سے پہلے ہی 63لاکھ لوگوں کو ساحلی علاقے کو چھوڑ دینے کے لیے کہا جا چکا ہے لیکن فلوریڈا کے گورنر رک سکاٹ کا کہنا تھا کہ اب اتنی تاخیر ہو چکی ہے کہ کسی کے لیے وہاں رکنا خطرے سے خالی نہیں۔
طوفان ارما کے فلوریڈا پہنچنے کے ساتھ ہی اطلاعات کے مطابق ریاست کے مرکزی علاقوں میں چار لاکھ 30 ہزار گھروں کو بجلی کی فراہمی بند ہو چکی ہے۔جب ارما کیریبئن کے جزائر پر پہنچا تھا تو اس کی شدت چار بتائی گئی تھی لیکن کیوبا سے ٹکرانے کے بعد اس کی شدت میں کمی آئی اور اسے تیسری کیٹیگری میں رکھا گیا۔لیکن بعد میں نیشنل ہریکین سنٹر (این ایچ ایس) نے کہا تھا کہ فلوریڈا تک آتے آتے اس کی طغیانی میں اضافہ ہو جائے گا اور وہ پہلے جیسا تند و تیز ہو جائے گا۔اطلاعات کے مطابق فلوریڈا کے مغربی خلیجی ساحل کو سب سے زیادہ متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ طوفان کے راستے میں ٹیمپا اور سینٹ پیٹرز برگ جیسے شہر آ رہے ہیں۔ٹیمپا خلیج میں 30لاکھ آبادی ہے اور اسے سنہ 1921کے بعد سے کسی بھی بڑے طوفان کا سامنا نہیں رہا ہے۔